Monday, March 9, 2009

Ya Taiba - Naat - Aamir Liaquat Hussain

Ya Taiba - Naat - Aamir Liaquat Hussain


4 comments:

tallat2009 said...

I would love to have this naat YA-Tayyaba...recited by AAmir Liaqat Husain....Please do send it to me via email....My email is tal.latayeshah@gmail.com

tallat2009 said...

I am a member of Urdu Poetry Forum.

Musaffir said...

Naats

Unknown said...

جس معاشرے میں عدل نہ ہو وہاں اللہ کا فضل نہیں ہوتا،عامرلیاقت

لاہور(نمائندہ جنگ) معروف ریسرچ اسکالر اور جیو نیٹ ورک کے وائس پریذیڈنٹ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معراجوں میں سے ایک معراج یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے کردار کی فقید المثال بلندی سے خون کے پیاسوں اور بت پرستوں کوخدائے واحد کی بارگاہ میں سرنگوں کرکے یہ ثابت کردیا کہ طاقت تلوار میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے لاہور میں سینٹرل کالج برائے خواتین میں ”اسوہٴ حسنہ اور حسنِ معاشرت“ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے ممتاز مقرر نے کہا کہ جس معاشرے میں عدل نہیں ہوتا اُس معاشرے پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں ہوتااِسی لیے تمام انبیا اور بالخصوص پیغمبرآخر الزماں اور اُن کے اصحاب نے اپنی مبارک حیاتیں صرف اور صرف عدل،انصاف اوراللہ کے قانون کی بالادستی کے لیے وقف کردی تھیں اور یہی وہ فطری حسن تھا جس نے حسنِ معاشرت کو جنم دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اسوہٴ حسنہ دراصل حق کے پرچارکا نام ہے جس کے اصول جبر و استبداد نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق ہیں اور ہمارے پیارے نبی نے اِس راہ میں ناقابلِ بیان تکالیف سہہ کر تمام عالم انسانیت پر یہ واضح کردیاکہ کسی بھی انسان کے لیے استقامت سے بہترکوئی ہتھیار نہیں، اورمقصدکے حصول کے لیے ہمیشہ ڈٹنا ہے ،پتھرکھاکرہٹنا نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ جس طرح ہمارے نبی کے ہر عمل کی ایک معراج ہے اُسی طرح اسوہٴ حسنہ کی معراج معاشرے میں حق و انصاف کا قیام ہے جس نے طاقت وروں کے تکبرکو پارہ پارہ کردیا۔عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ نظامِ عدل پرسوال اُٹھانے والوں کو تاریخ نے خوارج کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیااور آج بھی جو اللہ کے نظامِ عدل اور نبی کے پیمانہٴ انصاف کامنکر ہے وہ اسلام ہی نہیں بلکہ انسانیت کی صفوں سے بھی خارج ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حسنِ معاشرت کی بنیاد اُسی دن رکھ دی تھی جب بعض بااثر افراد نے سرکار کے بہت ہی پیارے اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے کسی ملزم کے حق میں سفارش کرانا چاہی توکریم المرتبت نے سفارش،پرچی اور تعلقات کے دباؤکو یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے ختم کردیا کہ ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اُس کے ہاتھ کاٹ دیتا“۔اُنہوں نے کہا کہ نبی کا یہ عمل ایک جانب اپنے پیارے اُسامہ کو ایسے لوگوں سے ہوشیار کرانا تھا تو دوسری جانب اپنا اور اپنی بیٹی کا تذکرہ کرکے بااثر افراد کو یہ باورکرانا تھا کہ تم سب ہی جان لوکائنات میں ہم سے زیادہ افضل ،اعلیٰ اور بااثرکون ہوگا؟ اورکون تصور بھی کرسکتا ہے کہ سیدہ فاطمہ (معاذ اللہ)چوری کریں گی؟لیکن جب قانون کی عملداری کے لیے جب میں اپنے جگرکے ٹکڑے کا صرف مثال دینے کے لیے نام لے سکتا ہوں توپھر کسی اور کی حیثیت ہی کیا ہے ۔عامر لیاقت کا یہ لیکچر 2گھنٹے جاری رہا جسے طالبات کی ایک کثیر تعداد نے انتہائی انہماک سے سنا اور بعد میں اُن سے سوالات بھی کیے۔اِس موقع پر ممتاز کالم نگاروں سیدارشاد احمد عارف ، رؤف طاہر،جیو نیٹ ورک کے ڈائریکٹر انفوٹینمنٹ عبدالرؤف اور ممتاز صحافی و دانش ور ضیا الحق نقشبندی نے بھی خطاب کیا اور عامر لیاقت حسین کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب میں سینٹرل گروپ آف کالجزکے بانی میاں عادل رشید کے علاہ میاں عمر رشید،میاں عمیر اور یونس بھٹی بھی موجود تھے جبکہ نظامت کے فرائض عقیل احمد نے انجام دیے۔

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=381498155277314&set=a.150376981722767.33163.144933782267087&type=1&relevant_count=1

Post a Comment

Bas Ya Hussain(A.S) © 2008. Design by :Yanku Templates Sponsored by: Tutorial87 Commentcute